Xchat.pk

www.xchat.pk

حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ کا اسلامق

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)
Loading...
Share:

How To Play:

حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ کا اسلامق

حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ نے حضرت مُصعب رضی اللہ عنہ سے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ تمہارے پاس ایک ایسا سردار آرہا ہے،. جس کے پیچھے اس کی پوری قوم ہے۔ اگر اس نے تمہاری بات مان لی توپھر ان میں سے کوئی بھی نہ پچھڑے گا۔
حضرت مصعب رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن معاذ سے کہا .: کیوں نہ آپ تشریف رکھیں اور سنیں۔ اگر کوئی بات پسند آگئی تو قبول کرلیں اور اگر پسند نہ آئی تو ہم آپ کی ناپسندیدہ بات کو آپ سے دور ہی .رکھیں گے۔ حضرت سعد نے کہا :. انصاف کی بات کہتے ہو ، اس کے بعد اپنا نیزہ گاڑ کر بیٹھ گئے۔ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ نے ان پر اسلام پیش کیا اور قرآن کی تلاوت کی۔ ان کا بیان ہے. کہ ہمیں حضرت سعد کے بولنے سے پہلے ہی ان کے چہرے کی چمک دمک سے ان کے اسلام کا پتہ لگ گیا۔ اس کے بعد انہوں نے زبان کھولی اور فرمایا :. تم لوگ اسلام لاتے ہو تو کیا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا :آپ غسل کرلیں، پھر حق کی شہادت دیں .، پھر دورکعت نماز پڑھیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔
اس کے بعد اپنا نیزہ اٹھا یا اور اپنی قوم کی محفل میں تشریف لائے۔ .لو گوں نے دیکھتے ہی کہا : ہم واللہ! کہہ رہے ہیں کہ .حضرت سعد رضی اللہ عنہ جو چہرہ لے کر گئے تھے اس کے بجائے دوسراہی چہرہ لے کر پلٹے ہیں۔ پھر جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ اہل مجلس کے پاس آکر رکے تو بولے: .اے بنی عبد الاشہل ! تم لو گ اپنے اندر میرا معاملہ کیسا جانتے ہو ؟ انہوں نے کہا .: آپ ہمارے سردار ہیں۔ سب سے اچھی سوجھ بوجھ کے مالک ہیں اور ہمارے سب سے بابرکت پاسبان ہیں.۔ انہوں نے کہا : اچھا تو سنو ! اب تمہارے مردوں اور عورتوں سے میری بات چیت حرام ہے. جب تک کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہ لاؤ۔ ان کی اس بات کا یہ اثر ہواکہ شام ہوتے ہوتے .اس قبیلے کا کوئی بھی مرد اور کوئی بھی عورت ایسی نہ بچی جو مسلمان نہ ہوگئی ہو۔ صرف ایک آدمی جس کا نا م اُصیرم تھا. اس کا اسلام جنگِ احد تک موخر ہوا۔ پھر احد کے دن اس نے اسلام قبول کیا اور جنگ میں لڑتا ہو ا کام آگیا۔ اس نے ابھی اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کیا تھا۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ اس نے تھوڑا عمل کیا اور زیادہ اجر پایا۔
حضرت مصعب رضی اللہ عنہ ، حضرت سعد ابن زرارہ ہی کے گھر مقیم رہ کر اسلام کی تبلیغ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ انصار کا کوئی گھر باقی نہ بچا جس میں چند مرد اور عورت مسلمان نہ ہوچکی ہوں۔ صرف بنی امیہ بن زید اور خطمہ اور وائل کے مکانات باقی رہ گئے تھے۔ مشہور شاعر ابو قیس بن اسلت انہیں کا آدمی تھا اور یہ لوگ اسی کی بات مانتے تھے۔ اس شاعر نے انہیں جنگ خندق ( ۵ ہجری ) تک اسلام سے روکے رکھا۔ بہرحال اگلے موسمِ حج، یعنی تیرہویں سال نبوت کا موسمِ حج آنے سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کامیابی کی بشارتیں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مکہ تشریف لائے اور آپ ﷺ کو قبائل یثرب کے حالات ، ان کی جنگی اور دفاعی صلاحیتوں ، اور خیر کی لیاقتوں کی تفصیلات سنائیں۔ (ابن ہشام ۱/۴۳۵-۵۳۸ ، ۲/۹۰، زادالمعاد ۲/۵۱)

حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ کا اسلامق .حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ کا اسلامق حضرت. سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ کا اسلامق .حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ کا اسلامق حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ کا اسلامق .حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ کا اسلامق

 

Game Category: Islamic Artical

Leave a Reply